لکھنؤ 31/ دسمبر (ایس او نیوز/ ایجنسی) سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو اور وزیر اعلی اکھلیش یادو کے درمیان جاری تنازعہ کے درمیان پہلا راؤنڈ اکھلیش جیتتے نظر آ رہے ہیں. ہفتہ کو ملائم اور اکھلیش دونوں نے ہی اپنےاپنے حامیوں کی میٹنگ بلائی تھی. قریب دس بجے اکھلیش کی میٹنگ شروع ہوئی. 229 ارکان اسمبلی میں 198 ارکان اسمبلی، 34 ایم ایل سی اور وہ امیدوار بھی پہنچے، جن کا نام اکھلیش کی لسٹ میں شامل تھا۔ میٹنگ میں نصف سے زیادہ ارکان اسمبلی کے اکھلیش کی میٹنگ میں پہنچنے سے ان کا پلڑا انتہائی بھاری ہوگیا ہے.
ذرائع کے مطابق، اکھلیش کی میٹنگ میں آنے والے ممبران اسمبلی کو موبائل کے ساتھ اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی. اس کے علاوہ، یہ بھی ہدایت دی گئی کہ اکھلیش کی اجازت کے بغیر اجلاس سے کوئی باہر نہیں جائے گا. پیغام صاف تھا کہ یہاں آنے والے لوگ بعد میں ملائم کی میٹنگ میں نہ پہنچ پائیں. اکھلیش کی میٹنگ میں ممبران اسمبلی کی حمایت کے طور پر دستخط کرائے گئے. اس میٹنگ میں رام گوپال یادو بھی پہنچے.
ملائم کی میٹنگ میں صرف 14 ممبران اسمبلی
ملائم نے بھی اپنی رہائش گاہ پر اعظم خان کے ساتھ میٹنگ کی. ملائم نے جن 325 اُمیدواروں کی فہرست جاری کی تھی، انہیں انہوں نے صبح ہی میٹنگ کے لئے بلایا تھا. ایس پی دفتر پر عتیق احمد، سریندر پٹیل، پارس ناتھ، راجكشور، عبد الحنان، کمال یوسف کے علاوہ شیو پال بھی موجود رہے. بتایا جا رہا ہے کہ ملائم کی میٹنگ میں صرف 15 ممبر اسمبلی پہنچے. انہوں نے جن امیدواروں کا اعلان کیا تھا، ان میں سے صرف 67 ہی ملائم کی میٹنگ میں گئے. اس درمیان خبر ہے کہ اعظم خان نے اپنی رہائش گاہ پر ہفتے کے روز دوپہر تین بجے مسلم ممبران اسمبلی کی میٹنگ بلائی. ادھر، ایس پی سربراہ کے علاقے اعظم گڑھ میں بھی اکھلیش کی حمایت میں استعفوں کا دور جاری ہے. پارٹی کے ضلعی صدر اور ترجمان نے بھی استعفی دے دیا ہے.